اگلے مالی سال کی لیے 2184 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھنے کی تجویز, جی ڈی پی کا ہدف 5 فیصد مقرر کیا گیا

New budget will increase chances of development in the country, Ahsan Iqbal

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا  جس میں معاشی ترقی کی شرح (جی ڈی پی) 5 فیصد رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اگلے مالی سال کیلیے 2184 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھنے کی تجویز ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کیلئے 700 ارب روپے رکھے جائیں گے اور مزید 100 ارب روپے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت خرچ کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق سب سے زیادہ رقم یعنی 112 ارب روپے بلوچستان پر خرچ کرے گا، ملک کے 10 غریب ترین اضلاع کیلئے 30 ارب روپے اور سابق فاٹا کیلئے 50 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ کراچی سے پشاور تک پاکستان کی طویل ترین ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کیلئے 7 ارب روپے رکھے جائیں گے، سب سے زیادہ ترجیح دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل کو دی جائے گی، دوسری ترجیح اعلیٰ تعلیم کو ملے گی، اسلام آباد میں ڈاکٹر قدیر یونیورسٹی بنے گی، تیسری ترجیح سڑکوں، ریلوں اور بندرگاہوں کی ترقی کو دی جائے گی۔ 

صوبوں نے 1384ارب کے ترقیاتی بجٹ تجویز کیے ہیں، اراکین قومی اسمبلی کی پبلک اسکیموں کیلیے 91 ارب روپے، آزاد جموں وکشمیر، گلگت بلتستان کے لیے 95 ارب روپے،خیبر پختونخوا میں ضم شدہ علاقوں کے لیے 50 ارب روپے، پنجاب کیلئے 585 ارب روپے ، سندھ کیلئے 355 ارب ،خیبر پختون خوا کیلئے 299 ارب روپے، بلوچستان کیلئے 143 ارب روپے رکھنے کی تجویزہے۔

انفراسٹرکچر کی تعمیر پر 433 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ سماجی منصوبوں پر 144 ارب خرچ کرنے کا تخمینہ ہے، توانائی پر84 ارب اور ٹرانسپورٹ مواصلات کیلئے 227 ارب روپے شامل کئے گئے ہیں، پانی کے منصوبوں کیلئے 83 ارب، پلاننگ، ہاؤسنگ کیلئے 39 ارب مختص، زراعت کی ترقی کیلئے13 ارب اور انڈسٹریز کیلئے صرف 5 ارب کی تجویزہے، سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے 25 ارب، گورننس کیلئے 16 ارب رکھے جائیں گے۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published.