مناسک حج کی تفصیل اور طریقہ

Details and Method of Hajj Rituals - ahgroup-pk

حج نہ صرف اسلام کا  پانچواں  بنیادی  رکن ہے بلکہ  قرب الہی  حاصل کرنے کے لیے ایک مقدس اور روحانی سفر کا نام بھی  ہے۔ حج صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ مناسک حج ہر سال ذی الحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کو مکہ مکرمہ میں ادا کیے  جا تے ہیں۔

حج کے فرائض

حج کے چار فرائض مندرجہ ذ یل ہیں

حج کی نیت کرنا  احرام باندھنا –

میدان عرفات میں قیام –

سعی (صفا اور مروہ کے درمیان 7 مرتبہ چکر لگانا) –

طواف زیارت ( خانہ کعبہ کے 7 چکر لگانا) –

ان امیں سے اگر کوئى فرض  بھی رہ جائے تو حج ادا نہىں ہوگا ۔  فرائض کے علاوہ  جو  ارکان ہیں یا  تو وہ   واجبات ہیں یا پھر سنت ۔

حج کے مراحل اور ادائیگی

حج کے مراحل اور ادائیگی کا طریقہ کار سجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ حج کی کتنی  اقسام ہیں۔

حج کی اقسام

:حج کی تین اقسام ہیں

حجِ افراد –

حجِ تمتع –

حجِ قران –

:حجِ افراد

اگر حاجی میقات سے حج کا احرام باندھے، تو ایسے حج کو ’’حجِ افراد‘‘ کہتے ہیں۔

میقات وہ  مقام ہے جہاں سے حج یا عمرہ پر جانے والے لوگ احرام باندھتے ہیں  اور اس مقام حاجیوں کے لیے   احرام باندھنا ضروری ہے

مقامِ میقات چھ ہیں جن میں سے پانچ حضرت محمد نے متعین کر دیے تھے جبکہ چھٹا میقات بھارت اور مشرق بعید سے آنے والےزائرین  حج کے لیے بعد میں متعین کیا گیا تھا۔  مکہ کے مقیم  حاجیوں کے لیے  میقات مسجد الحرام  یا  ان کا اپنا گھر  ہے۔

:مقام میقات

Maqam e Miqat -Dhul-Hulaifah - Details and Method of Hajj Rituals - ahgroup-pk

ذوالحلیفہ۔ مقام  مدینہ سے آنے والے حاجیوں  کے لیے ہے۔

جحفہ۔ شام  سے  آنے والے حاجیوں کے لیے یہ مقام میقات ہے۔

قرن المنازل۔ جو حاجی  نجد  سے آتے ہیں یہ مقام ان کے لیے ہے۔

یلملم- یمن سے آنے والوں کے لیے جاجیوں کے لیے۔

ذات عرق، عراق  سے حج کرنے والے حاجیوں کے لیے۔

ابراہیم مرسیا، پاکستان  بھارت  کے سمندری راستے سے آنے والوں کے لیے یہ مقام میقات ہے۔

:حجِ تمتع

اگرحاجی حج کے مہینوں (شوال، ذی القعده، ذی الحجہ) میں عمرہ کا احرام باندھے اور عمرہ کرکے حلال ہوجائے، پھر آٹھ ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ سے حج کا احرام باندھ کر حج کرے، تو ایسے حج کو ’’حجِ تمتع‘‘ کہتے ہیں۔

:حجِ قران

اگر حاجی میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے اور عمرہ کرنے کے بعد احرام نہ کھولے اور  اسی احرام کے ساتھ حج کرے، تو ایسے حج کو ’’حجِ قران‘‘ کہتے ہیں

:فریضہ حج کی  شرائط

who is eligible to perform hajj - ahgroup-pk

حج ایک اسلامی فریضہ ہے لیکن حج ہر مسلمان پر فرض نہیں ہے۔ فریضہ حج کی کچھ شرائط ہیں جن میں؛

مسلمان ہونا: شرط اول  حج  ہے مسلمان ہونا، دین اسلام کی کوئی بھی عبادت کسی غیر مسلم پر فرض نہیں چاہے نماز ہو یا حج۔

آزاد ہونا:  فریضہ  حج کی دوسری شرط ہے  آزادی  یعنی  اگر کوئی غلام دوران غلامی حج کرتا ہے تو ان کو نفلی حج میں شامل ہوگا ۔ اور  جب بھی وہ آزاد ہوگا تو اس کےذ مے حج کا فریضہ ابھی باقی ہوگا۔

صاحب استطاعت ہونا: اگر کوئی شخص اوپر بتائی گئی دونوں شرائط پر پورا اتر رہا ہے لیکن اس کے پاس حج کے لیے سفر یا سواری کرنے کی استطا عت نہیں ہے تو اس صورت میں  بھی حج فرض نہیں ہوگا۔

 حج فرض ہونے کی اس شرط کے حوالے سے  قرآن پاک اور احادیث  میں واضح دلائل اور وضاحت موجود ہے: جیسا کہ سورۃ آل عمران میں ارشاد ھے

فِيْهِ اٰيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ اِبْـرَاهِـيْمَ ۖ وَمَنْ دَخَلَـهٝ كَانَ اٰمِنًا ۗ وَلِلّـٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّـٰهَ غَنِىٌّ عَنِ الْعَالَمِيْنَ

:ترجمہ

“اس میں ظاہر نشانیاں ہیں (اور) مقام ابراھیم ہے، اور جو اس میں داخل ہو جائے وہ امن والا ہو جاتا ہے، اور لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا اللہ کا حق ہے جو شخص اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو، اور جو انکار کرے تو پھر اللہ جہان والوں سے بے پروا ہے”

-اب آتے ھیں حج کے مراحل اور ادائیگی کا طریقہ کارکی جانب

:نیت کرنا اور احرام باندھنا

niyah and enter ihram - details and methods of hajj rituals - ahgroup-pk

حج کے لئے جانے سے پہلے نیت کرنا اور  احرام کی حالت میں رہنا سب سے ضروری ہے  ۔احرام  مردوں کے لیے  سفید چادر کے دو ٹکڑے جبکہ  خواتین کیلئے ڈھیلا ڈھالا   لباس یا عبایا ہے جس سےوہ جسم کو اچھی طرح سے ڈھانپیں۔ حالت احرام میں ایک بار، حجاج کو تلبیہ پڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے  تلبیہ اونچی آواز میں پڑھی جانی چاہیے۔

تلبیہ

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إنّ الحمد، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكََ لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریکا لکا لبیک، انالحمدہ، ونیومتہ، لکا والملک، لا شریکا لکا۔

:مکہ سے منیٰ روانگی

enter mina from makkah - details and methods of hajj rituals - ahgroup-pk

حاجی آٹھ ذی الحجہ کو فجر کی نماز مکہ میں پڑھنے کے بعد  منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں  ۔منیٰ مکہ مکرمہ کے مرکز سے تقریباً 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔منی میں پہنچ کر پانچ نمازیں اپنے اپنے وقت پرادا کریں اور یہاں نو ذو الحجہ کی صبح تک رہیں ۔ اس سفر میں کثرت سے تلبیہ پڑھیں۔  خیمے میں قیام کرنے کے بعد ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں قصر کی صورت میں ادا کریں گے، یعنی نمازیں قصر کریں گے ۔نماز کا قصر کرنا ہر ایک پر لاگو ہوتا ہے،  چاہے وہ شخص مکہ کا رہائشی ہو یا نہ ہو۔

:(وقوف عرفہ (میدان عرفات میں قیام کرنا

journey to arafah - details and methods of hajj rituals - ahgroup-pk

نو ذی الحجہ کو فجر کی نماز منیٰ میں پڑھ کر منیٰ سے عرفات کے لیے روانہ ہوجائے، عرفات پہنچ کر ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ظہر کے وقت میں ادا کرے اور غروب آفتاب تک عرفات میں رہے، غروب آفتاب کے بعد تلبیہ پڑھتے ہوئے عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائے۔

:عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی

From Arafah to Muzdalifah - details and methods of hajj rituals - ahgroup-pk

نو ذی الحجہ کو  غروب آفتاب کے بعد تلبیہ پڑھتے ہوئے عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہو۔مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں ادا کرے، رات مزدلفہ میں گزارے اور پھر دس ذی الحجہ کو فجر کی نماز مزدلفہ میں اد اکرنے کے بعد منیٰ کے لیے روانہ ہوجائے۔

:مزدلفہ سے منیٰ کے لیے روانگی

دس ذی الحجہ کو فجر کی نماز اد اکرنے کے بعد منیٰ کے لیے روانہ ہو۔

رمی

منیٰ پہنچ کر رمی یعنی بڑے شیطان کو کنکریاں مارے۔

دمِ شکر

حجِ تمتع یا قران کرنے والا دمِ شکر یعنی حج کی قربانی کرے۔

حلق

حاجی  قربانی کرنے کے بعد حلق(سرمنڈا) کر احرام سے نکل جائے۔

یہ تینوں کام اسی ترتیب سے کرنا واجب ہیں۔

: (طواف زیارت (خانہ کعبہ کے 7 چکر لگانا

Tawaf e Kaaba - details and methods of hajj rituals - ahgroup-pk

رمی، دم شکر، حلق کرنے بعد  حاجی  احرام سے نکل جائے گا تاہم طوافِ زیارت سے پہلے بیوی اس پر حلال نہیں ہوگی۔ اگر حاجی چاہے تو طوافِ زیارت اسی دن کر لے، ورنہ بارہ ذو الحجہ کی مغرب سے پہلے پہلے تک کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔

: (سعی یعنی (صفا اور مروہ کے درمیان 7 بار چکر لگانا

safa and marwa - details and methods of hajj rituals - ahgroup-pk

حاجی طواف زیارت کے ساتھ  صفا اور مروہ کی سعی  کی جاتی ہے  اور یہ حج کا چوتھی لازمی رکن  ہے۔ صفا اور مروہ ہیں مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام میں دو تاریخی پہاڑیں ہیں  اور ان  دونوں  پہاڑیوں کے درمیان کل فاصلہ 45 کلومیٹر ہےسعی کی سات چکر  مینں  ایک مسلمان تقریباً (3.15 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کرتا ہے۔  اگر  حاجی  اس  مسافت کا معمولی سا حصہ بھی پورا نہ کر یں تو سعی کا رکن  مکمل نہیں ہوگا۔سعی کے   بعد حاجی  واپس منیٰ آجائے چاہے تو اپنی رہائش پر   چلا  جائے۔ رات  کو منیٰ میں  قیام کرنامسنون ہے۔

:رامی جمرات کو کنکریاں مارنا

rami jamarat stoning - details and methods of hajj rituals - ahgroup-pk

گیارہ ذو الحجہ اور ذو الحجہ کو زوال کے بعد  تینوں شیطانوں کی رمی کرے۔ زوال سے پہلے رمی کرنا درست نہیں ہے۔ گیارہ ذوالحجہ کی رات بھی منیٰ میں گزارنا مسنون ہے۔

:الوداعی طواف

بارہ ذو الحجہ کی رمی سے فارغ ہونے کے بعد  اگر وہ حدود حرم سے باہر کا رہائش پذیر ہے تو اس کو اپنے وطن واپسی سے پہلے طواف وداع کرنا واجب ہے،اور اگر حدود حرم کا ہی رہائشی ہے تو بارہ ذو الحجہ کی رمی کے بعد اس کا حج مکمل ہو جائے گا حجاج کرام “طواف الوداع” کرنے کے لیے مکہ مکرمہ میں کعبہ واپس آتے ہیں جو الوداعی طواف ہے جس کے بعد سعی ہوتی ہے۔ سرکاری طور پر حج کے اختتام  یہاں پر ہوجاتا ہے لیکن بہت سے حجاج گھر جانے سے پہلے مدینہ منورہ بھی حاضری کے لیے  جاتے ہیں۔

ہم نے اپنے اس بلاگ میں حج کی ادائیگی  کا مرحلہ وار طریقہ بتا یا ہے تا کہ  پہلی بار حج پر جانے والے عازمین کو رہنمائی  مل سکے ۔ ذوالحجہ کے دس دن اسلام کے مقدس ترین ایام ہیں جن میں ہمیں دعائیں اور تلبیہ پڑھنی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ صدقہ و زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ تاکہ ہم سب اس مہینے کے بابرکت دن کا ثواب حاصل کر سکیں۔

Read More Blogs

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *